
امریکا کے فلوریڈا میں برفیلے رِنک پر تاریخ رقم ہوئی جب پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز نے دنیا کو حیران کر دیا اور امیروگول لاٹم کپ 2025 ڈویژن تھری کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ یہ تاریخی کامیابی پہلی بار پاکستان کے لیے آئس ہاکی میں بین الاقوامی اعزاز لائی ہے، جس نے پوری قوم میں فخر کی لہر دوڑا دی اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی کھیلوں کی روح کی کوئی حد نہیں۔ خواتین کی ٹیم نے بھی پہلی بار شرکت کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ جیتا، جس نے اس کامیابی کو دوگنا جشن بنا دیا۔ یہ کامیابی محض ایک جیت نہیں بلکہ ایک اعلان ہے: پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز عالمی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

کمزور سے چیمپئنز تک کا سفر
صرف ایک سال پہلے پاکستان کی آئس ہاکی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں بمشکل ایک میچ جیتا تھا۔ لیکن 2025 میں یہی ٹیم مزید مضبوط، بہتر اور پُرعزم ہو کر واپس لوٹی۔ انہوں نے پورے ایونٹ میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنی مہم کا اختتام شاندار 6-1 کی فتح کے ساتھ پیرو کے خلاف کیا۔
مردوں کی یہ سنہری کامیابی اور خواتین کے شاندار ڈیبیو پر کانسی کا تمغہ، پاکستان کے نام کو باضابطہ طور پر تاریخ میں پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کے طور پر درج کر گیا۔
کامیابی کا جشن: کوچز اور کھلاڑیوں کے تاثرات
یہ غیر معمولی جیت نہ صرف کھلاڑیوں نے بلکہ کوچنگ اسٹاف نے بھی بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منائی:
کیمرون صابر، مردوں کے ہیڈ کوچ نے کہا: “یہ خواب سچ ہونے جیسا ہے… پہلا گولڈ، پہلا کپ، پاکستان آئس ہاکی کے لیے ایک شاندار دن۔”
ماریہ راؤف، خواتین کی کوچ نے کہا: “کرکٹ ہمارا قومی کھیل ہے، لیکن اس کامیابی کے بعد آئس ہاکی پاکستان میں روز بروز بڑھ رہی ہے۔”
ڈونی خان، جو ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار رکھتے ہیں، نے اس عزم کی تعریف کی اور کہا کہ یہ تو صرف آغاز ہے پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کے سفر کا۔
کامیابی کے پیچھے کی جدوجہد
پاکستان کا آئس ہاکی چیمپئنز بننے کا سفر آسان نہیں تھا۔ ملک میں چند ہی آئس رِنکس، محدود وسائل اور کھلاڑیوں کی کم تعداد کے باوجود ٹیم نے انتھک محنت کی۔ مردوں کی ٹیم کو گزشتہ سال کی مشکلات کے بعد دوبارہ اٹھنا پڑا جبکہ خواتین کی ٹیم نے بمشکل ایک درجن کھلاڑیوں کے ساتھ ٹورنامنٹ میں قدم رکھا۔
لیکن تمام رکاوٹوں کے باوجود وہ حقیقی معنوں میں پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز بن کر ابھرے، اور ثابت کیا کہ جذبہ اور استقامت ہر رکاوٹ کو توڑ سکتی ہے۔
پاکستان میں آئس ہاکی کا نیا دور
یہ کامیابی پاکستان میں آئس ہاکی کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تاریخی جیت ملک میں:
زیادہ فنڈنگ اور سہولیات جیسے رِنکس اور آلات کی فراہمی،
گراؤنڈ لیول پروگرامز جو نئی نسل کو متاثر کریں گے،
اور بین الاقوامی پہچان جو بڑے ٹورنامنٹس کے دروازے کھولے گی،
لے کر آئے گی۔ پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کی کامیابی صرف ایک کھیل کی فتح نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ونٹر اسپورٹس کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اختتامیہ
امریکا میں اپنی شاندار کارکردگی کے ساتھ، پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز نے دنیا کو دکھا دیا کہ کوئی خواب بڑا نہیں اور کوئی کھیل ناقابلِ حصول نہیں۔ ان کی کہانی جذبے، حوصلے اور قومی فخر کی کہانی ہے۔ یہ اختتام نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی آئس ہاکی میں عروج کی شروعات ہے۔
پاکستان نے عالمی اسٹیج پر صاف اور بلند آواز میں کہہ دیا ہے: ہم ہیں آئس ہاکی چیمپئنز۔

کمزور سے چیمپئنز تک کا سفر
صرف ایک سال پہلے پاکستان کی آئس ہاکی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں بمشکل ایک میچ جیتا تھا۔ لیکن 2025 میں یہی ٹیم مزید مضبوط، بہتر اور پُرعزم ہو کر واپس لوٹی۔ انہوں نے پورے ایونٹ میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنی مہم کا اختتام شاندار 6-1 کی فتح کے ساتھ پیرو کے خلاف کیا۔
مردوں کی یہ سنہری کامیابی اور خواتین کے شاندار ڈیبیو پر کانسی کا تمغہ، پاکستان کے نام کو باضابطہ طور پر تاریخ میں پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کے طور پر درج کر گیا۔
کامیابی کا جشن: کوچز اور کھلاڑیوں کے تاثرات
یہ غیر معمولی جیت نہ صرف کھلاڑیوں نے بلکہ کوچنگ اسٹاف نے بھی بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منائی:
کیمرون صابر، مردوں کے ہیڈ کوچ نے کہا: “یہ خواب سچ ہونے جیسا ہے… پہلا گولڈ، پہلا کپ، پاکستان آئس ہاکی کے لیے ایک شاندار دن۔”
ماریہ راؤف، خواتین کی کوچ نے کہا: “کرکٹ ہمارا قومی کھیل ہے، لیکن اس کامیابی کے بعد آئس ہاکی پاکستان میں روز بروز بڑھ رہی ہے۔”
ڈونی خان، جو ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار رکھتے ہیں، نے اس عزم کی تعریف کی اور کہا کہ یہ تو صرف آغاز ہے پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کے سفر کا۔
کامیابی کے پیچھے کی جدوجہد
پاکستان کا آئس ہاکی چیمپئنز بننے کا سفر آسان نہیں تھا۔ ملک میں چند ہی آئس رِنکس، محدود وسائل اور کھلاڑیوں کی کم تعداد کے باوجود ٹیم نے انتھک محنت کی۔ مردوں کی ٹیم کو گزشتہ سال کی مشکلات کے بعد دوبارہ اٹھنا پڑا جبکہ خواتین کی ٹیم نے بمشکل ایک درجن کھلاڑیوں کے ساتھ ٹورنامنٹ میں قدم رکھا۔
لیکن تمام رکاوٹوں کے باوجود وہ حقیقی معنوں میں پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز بن کر ابھرے، اور ثابت کیا کہ جذبہ اور استقامت ہر رکاوٹ کو توڑ سکتی ہے۔
پاکستان میں آئس ہاکی کا نیا دور
یہ کامیابی پاکستان میں آئس ہاکی کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تاریخی جیت ملک میں:
زیادہ فنڈنگ اور سہولیات جیسے رِنکس اور آلات کی فراہمی،
گراؤنڈ لیول پروگرامز جو نئی نسل کو متاثر کریں گے،
اور بین الاقوامی پہچان جو بڑے ٹورنامنٹس کے دروازے کھولے گی،
لے کر آئے گی۔ پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز کی کامیابی صرف ایک کھیل کی فتح نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ونٹر اسپورٹس کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اختتامیہ
امریکا میں اپنی شاندار کارکردگی کے ساتھ، پاکستان آئس ہاکی چیمپئنز نے دنیا کو دکھا دیا کہ کوئی خواب بڑا نہیں اور کوئی کھیل ناقابلِ حصول نہیں۔ ان کی کہانی جذبے، حوصلے اور قومی فخر کی کہانی ہے۔ یہ اختتام نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی آئس ہاکی میں عروج کی شروعات ہے۔
پاکستان نے عالمی اسٹیج پر صاف اور بلند آواز میں کہہ دیا ہے: ہم ہیں آئس ہاکی چیمپئنز۔